افسانہ جوتا کا سماجی مطالعہ
افسانہ جوتا دیہی سماج کی بات کی جائے تو وہاں انسان کی توقیر جوتے برابر بھی نہیں ہے۔ انسانی بے توقیری کے اس پہلو پر قاسمی صاحب کا افسانہ جوتا خاصی اہمیت کا حامل ہے.افسانے کا عنوان ہی کافی حد تک اس حیثیت یا یہ کہہ لو اوقات کو واضح کر دیتا ہے جو اس سماج کے اونچے درجے کے لوگوں نے غریب آدمی کی مقرر کی ہوئی ہے۔ اونچے درجے کے لوگ اپنے سے کم حیثیت والے بندے کو اپنے سے آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اور ہر موڑ پر انہیں پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ موضوع افسانہ جوتا کا موضوع بھی یہی ہے جس میں کرموں نامی میراثی کا کردار اس غریب آدمی کا کردار ہے جو اونچے درجے کے لوگوں ک ہاتھوں پستا رہتا ہے۔ کرموں ایک محنتی اور اچھی سوچ رکھنے والا انسان ہے۔ جو اپنے بچوں کو یہ سوچ کر تعلیم دلواتا ہے کہ وہ بھی اپنے باپ کی طرح تالی بجا بجا کر قوالی گاتے ہوئے اور اپنے سے اونچے درجے کے لوگوں کے آگے جھکتے ہوئے زندگی نہ گزار دیں۔ مگر اس فیصلے پر کرموں کو لوگوں کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کا ردعمل ایسے ہے جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ کرموں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔...