افسانہ چوری کا سماجی مطالعہ
احمد ندیم قاسمی افسانہ چوری سماج میں غریب بہت زیادہ پستا ہوا نظر آتا ہے ہر کوئی وجہ بے وجہ اس کا استحصال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بڑے آدمی پر نہ تو کوئی ہاتھ ڈالتا ہے اور نہ کسی میں اتنی ہمت ہوتی ہے کہ غریب کے لیے آواز اٹھا سکے۔ غریب آدمی کے استحصال کے موضوع پر قاسمی صاحب کا ایک اور زبردست افسانہ چوری بھی ہے۔ جس میں قاسمی صاحب نے نہایت عمدگی سے منگو نامی غریب لڑکے کا استحصال ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ موضوع منگو کے مالی اور جسمانی دونوں ہی حالات خراب ہیں۔ کام کی زیادتی سے انگلیوں کا خون نکل کر ناخنوں میں جم گیا ہے۔ کپڑے پھٹتے پرانے ہیں۔ ماں مر گئی ہے اور خود کنوارہ ہے۔ کیونکہ لڑکی کے گھر والے شادی کے عوض پانچ سو روپے مانگتے ہیں اور منگو غریب کو تو پانچ پیسے مشکل سے نصیب ہوتے ہیں ۔ ایک دن گاؤں میں کسی لڑکی کی بارات آتی ہے اور منگو برات دیکھنے کے شوق میں برات کے مجمع میں شامل ہو جاتا ہے۔ جہاں اچانک ایک بوڑھا اپنا بٹوا چوری ہو جانے کا شور ڈالتا ہے اور تبھی بہت سارے ہاتھ منگو کے اوپر آتے ہیں جو کہ اسے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ایک شخص بے دردی سے منگو کو بالوں سے پکڑ لیتا ہے۔ یہاں منگو خود س...