افسانہ گھر سے گھر تک کا سماجی مطالعہ
افسانہ گھر سے گھر قاسمی صاحب کے عمدہ اور بہترین افسانوں میں سے ایک افسانہ گھر سے گھر تک ہے۔ جسے پڑھ کر کچھ لمحوں تک تو قاری کی ہنسی نہیں روکتی۔ جو موضوع قاسمی صاحب نے اس افسانے میں قلم بند کیا ہے وہ ہمارے سماج کے مڈل کلاس گھرانوں اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں کی عمدہ تصویر کشی ہے۔ یہ ہمارے سماج کا نمایاں موضوع ہے۔ اسے ملمع کا نام دیا جائے یا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دیکھانے کے اور جیسی ضرب الامثال کے مماثل قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ افسانے میں دیکھایا جانے والا منظر وہ منظر ہے جسے ہمارے سماج کے اکثر گھرانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں ہر کوئی اپنی ظاہری شکل و صورت چھپائے ایک جعلی خول اوڑھے ہوئے ہے۔ عشرت خانم کا جملہ س رخی پاؤڈر بہا لے جائے تو نیچے سے کیسے سچے اور کھڑے چہرے نکل آتے ہیں ایک ایسا جملہ ہے جو تقریباً افسانے کے پورے موضوع کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ ا فسانے میں دو گھرانوں کو مثال بنا کر ہمارے سماج کے ان گھرانوں کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے جو بظاہر شان و شوکت کی عمدہ تصویر نظر آتے ہیں مگر اندر سے بھر بھری ریت کی مانند نکلتے ہیں بالکل خالی برتن کی...